مصروف کیلنڈر، نامکمل تعاون: سفارت کاری کا کیلنڈر ملاقاتیں گنتا ہے؛ اس کی کامیابی جانچنے کے لیے ملاقاتوں کے بعد کی دنیا دیکھنا پڑتی ہے۔ ستمبر 2026 میں بشکیک سے نیویارک تک عالمی تعاون کے کئی منظر سامنے آئے: یکم ستمبر کو شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں 28 دستاویزات منظور ہوئیں، 22 سے 28 ستمبر تک اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا عمومی مباحثہ جاری رہا، اور 26 ستمبر کو اسی کے موقع پر اقتصادی تعاون تنظیم کی غیررسمی وزارتی نشست ہوئی۔ ان اجلاسوں کو ایک ساتھ پڑھنے سے ایک اہم سوال ابھرتا ہے: ریاستیں ایک دوسرے سے مسلسل رابطے میں ہیں، تو مشترکہ فیصلوں کو عملی نتائج میں بدلنا اتنا مشکل کیوں ہے؟

چھے مشترک ارکان، ایک اہم فرق: اس سوال کی ایک کنجی تنظیموں کی رکنیت میں موجود ہے۔ اقتصادی تعاون تنظیم، یعنی ای سی او، کے دس میں سے چھے ارکان ایران، قازقستان، کرغزستان، پاکستان، تاجکستان اور ازبکستان شنگھائی تعاون تنظیم، یعنی ایس سی او، کے بھی رکن ہیں۔ دونوں فہرستوں کا تقابل بتاتا ہے کہ علاقائی سیاست کو الگ الگ اتحادوں کے خانوں میں رکھنا ناکافی ہے۔ بہت سی ریاستیں بیک وقت متعدد اداروں میں شریک ہیں اور ہر ادارے سے مختلف فائدہ چاہتی ہیں۔ تاہم مشترک رکنیت ملاقات کا موقع فراہم کرتی ہے؛ مشترکہ ترجیحات، سرمایہ اور قابل ِ عمل معاہدے الگ سے پیدا کرنا پڑتے ہیں۔ یہی فرق اس مصروف سفارتی مہینے کو سمجھنے کا بنیادی نکتہ ہے۔

ایک ریاست، مختلف ضرورتیں: ایران اس طرزِ سفارت کاری کی نمایاں مثال ہے۔ نیویارک میں اس کی ترجیح امریکا کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے مذاکرات اور جنگ و آبنائے ہرمز سے متعلق تعطل سے نکلنے کی کوشش تھی۔ بشکیک میں وہ ایس سی او کی علاقائی سیاسی و سلامتی مشاورت میں شریک تھا، جبکہ ای سی او میں اس کی رکنیت ہمسایوں کے ساتھ تجارت اور آمدو رفت کے امکانات سے جڑی ہے۔ رائٹرز نے ستمبر کے آخری ہفتے میں امریکی اور ایرانی حکام کے ثالثوں سے الگ الگ رابطوں کی خبر دی۔ اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ ریاست کے لیے عالمی، علاقائی اور اقتصادی فورمز مختلف ضرورتیں پوری کرتے ہیں۔ ایک میز پر مذاکرات جاری رہنے کا مطلب دوسری میز پر اختلافات کا ختم ہونا نہیں ہوتا۔

جنرل اسمبلی: نمائندگی سے عمل تک: اقوامِ متحدہ میں یہی فرق عالمی سطح پر سامنے آیا۔ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اپنے خطاب میں کثیر قطبی دنیا کے دو ممکنہ راستے بیان کیے: تقسیم اور وقتی سودوں پر قائم نظام، یا مشترکہ ضابطوں کے تحت باہم مربوط دنیا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹنگ میں زیادہ منصفانہ نمائندگی اور سلامتی کونسل کے اختیارات پر بے اطمینانی نمایاں تھی؛ رائٹرز کے جائزے میں سفارتی سرگرمی کے باوجود بڑے تنازعات پر فیصلہ کن پیش رفت محدود رہی۔ جنرل اسمبلی کی قدر اس کی وسیع نمائندگی، سیاسی دباؤ پیدا کرنے اور عالمی ترجیحات متعین کرنے کی صلاحیت میں ہے۔ تاہم عمومی مباحثے کی تقریر، منظور شدہ قرارداد اور اس پر عمل درآمد تین الگ مراحل ہیں۔ پہلے مرحلے کی سرگرمی کو تیسرے کی کامیابی سمجھنا ادارے کی قوت اور حدود، دونوں کو غلط پڑھنا ہوگا۔

ایس سی او: عالمی نظام میں جگہ، عمل کے لیے وسائل: بشکیک اجلاس میں منظور ہونے والی 28 دستاویزات میں اعلامیہ، منشور میں ترامیم کا پروٹوکول اور مختلف شعبوں سے متعلق فیصلے شامل تھے۔ ایک معنی خیز پہلو یہ بھی تھا کہ ’’ایس سی او پلس‘‘ نشست کا موضوع منصفانہ عالمی نظام میں اقوامِ متحدہ کی مرکزی اہمیت تھا۔ یہ اس تصور کو پیچیدہ بناتا ہے کہ علاقائی تنظیموں کا پھیلاؤ لازماً عالمی اداروں کی جگہ لینے کی کوشش ہے۔ یہاں ایک علاقائی فورم اپنی حیثیت بڑھاتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی اہمیت بھی تسلیم کر رہا تھا۔ لیکن سیاسی اتفاق سے اقتصادی صلاحیت تک پہنچنے کے لیے وسائل درکار ہیں: مجوزہ ایس سی او ترقیاتی بینک بشکیک اجلاس کے نتیجے میں فعال قرض دینے والا ادارہ نہیں بنا۔ اس لیے تنظیم کی اقتصادی پیش رفت کو جانچنے کے لیے دستاویزات کے ساتھ مالی انتظام، ذمے دار ادارے اور عمل درآمد کے مراحل بھی دیکھنا ہوں گے۔

(eng.sectsco.org, timesca.com)

ای سی او: تعاون کی اقتصادی کسوٹی: ای سی او کے اجلاس میں پیش کیے گئے اعداد اس بحث کو زمینی معیشت سے جوڑتے ہیں۔ اسحاق ڈار کے مطابق تقریباً نصف ارب آبادی والے خطے کا عالمی تجارت میں حصہ لگ بھگ 2.2 فی صد، جبکہ اس کے ارکان کے درمیان تجارت، خطے کی کل تجارت کا تقریباً 8 فی صد ہے۔ آٹھ فی صد کا تناسب بذاتِ خود کم تجارت کی تمام وجوہ ثابت نہیں کرتا؛ نہ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ تنظیمی رکنیت کا کوئی فائدہ نہیں۔ البتہ یہ ایک سنجیدہ سوال ضرور اٹھاتا ہے: خطے کے اقتصادی امکانات کو باہمی تجارت میں بدلنے کے لیے کیا کمی رہ گئی ہے؟ اس کا جواب راہداریوں کے اعلانات سے آگے، سرحدی کارروائیوں، نقل و حمل کی لاگت، ادائیگیوں کی سہولت اور راستوں کی قابل ِ اعتماد دستیابی میں تلاش کرنا ہوگا۔ (mofa.gov.pk)

پاکستان: مشترک رکنیت کا عملی امتحان: پاکستان اس بحث کی ایک عملی مثال ہے۔ وہ 2026-27 کے لیے ایس سی او کی کونسل ِ سربراہانِ مملکت اور ای سی او کی کونسل ِ وزرا کی صدارت کر رہا ہے۔ ستمبر کے آخر میں اسلام آباد میں ایس سی او کے قومی رابطہ کاروں کا اجلاس ہوا، جس میں بھارتی نمائندے کی شرکت نے اختلافات کے باوجود ادارہ جاتی رابطے کی گنجائش دکھائی۔ دوسری جانب ای سی او کی ترجیحات میں وسطی ایشیا کو بحیرۂ عرب سے ملانے والی راہداریاں شامل ہیں؛ ازبکستان، افغانستان اور پاکستان کے ریلوے منصوبے کی مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی کا فریم ورک جولائی 2025 میں طے پایا تھا۔ یہاں اصل آزمائش واضح ہے: افغانستان سے متعلق سلامتی کے خدشات اور اسی ملک سے گزرنے والے تجارتی راستوں کی ضرورت کو ایک ساتھ سنبھالنا ہوگا۔ دونوں صدارتیں ایجنڈا آگے بڑھانے کا موقع دیتی ہیں؛ ان کی کامیابی اس موقع کو قابلِ عمل تعاون میں بدلنے سے طے ہوگی۔ (mofa.gov.pk,indianexpress.com, mofa.gov.pk, mfa.gov.af, reuters.com)

کامیابی کا حساب کیسے ہوگا؟: تینوں اداروں کو ایک ہی پیمانے سے جانچنا بھی گمراہ کن ہوگا۔ جنرل اسمبلی کی افادیت صرف تجارتی اعداد سے نہیں ناپی جا سکتی، اور اقتصادی تنظیم کی کامیابی صرف سیاسی اعلامیے سے ثابت نہیں ہوتی۔

ہر ادارے سے اس کے اختیار اور مقصد کے مطابق سوال ہونا چاہیے: کیا سفارتی رابطے کسی قابل ِ عمل سمجھوتے تک پہنچے؟ کیا علاقائی فیصلوں کے لیے وسائل اور ذمے داریاں متعین ہوئیں؟ کیا اقتصادی تعاون نے سرحد پار تجارت میں کوئی رکاوٹ کم کی؟ نومبر میں متوقع ای سی او وزارتی اجلاس اور 2027 کے ایس سی او سربراہ اجلاس تک پیش رفت کو انہی سوالوں سے جانچا جا سکتا ہے۔ تجارتی تناسب میں تبدیلی ایک طویل مدتی اشارہ ہوگی؛ فوری امتحان ان اقدامات کا ہے جو ایسی تبدیلی ممکن بناتے ہیں۔ (mofa.gov.pk, timesca.com)

میزوں کے بعد کی دنیا: ستمبر کی سفارت کاری سے ایک ایسی عالمی سیاست کی تصویر ابھرتی ہے جس میں نمائندگی، علاقائی اثر اور اقتصادی تعاون مختلف اداروں میں تقسیم ہیں۔ چھے مشترک ارکان بتاتے ہیں کہ ان اداروں کے درمیان انسانی اور حکومتی رابطہ پہلے سے موجود ہے؛ ای سی او کی تقریباً 8 فی صد باہمی تجارت یاد دلاتی ہے کہ رابطے کی موجودگی، اقتصادی انضمام کی تکمیل نہیں۔ طاقت کا اگلا امتحان یہی ہے کہ ریاستیں اپنی مشترک رکنیت کو ایسے فیصلوں میں بدل سکیں جن کے لیے وسائل بھی ہوں اور عمل کی ذمے داری بھی۔ جب اگلا سفارتی کیلنڈر کھلے گا، کیا ان میزوں کا ربط سرحدوں پر آسان تجارت اور زیادہ قابلِ اعتماد تعاون کی صورت میں دکھائی دے گا، یا قاری کو ایک بار پھر اجلاسوں کی تعداد ہی بتائی جائے گی؟