اس وقت اصل خبر صرف ایران کے گرد جنگی کشیدگی نہیں، بلکہ وہ نئی تزویراتی ترتیب ہے جو اس کشیدگی نے پیدا کر دی ہے۔ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان رابطے بڑھ رہے ہیں، ایران بداعتمادی کے باوجود ضمانتیں مانگ رہا ہے، نئی دہلی میں برکس وزرائے خارجہ کا اجلاس مشترکہ اعلامیے کے بغیر ختم ہو جاتا ہے، بھارت اسی دوران امارات کے ساتھ دفاعی اور توانائی روابط مضبوط کرتا ہے، اور چین پاکستان کے ساتھ مل کر جنگ بندی، مذاکرات، اور آبنائے ہرمز میں آزاد جہازرانی کی حمایت کرتا ہے۔ یہ الگ الگ خبریں نہیں؛ یہ طاقت کے نئے اشارے ہیں۔ اسی لیے موجودہ مرحلے کو محض ایک اور مشرقِ وسطیٰ بحران سمجھنا غلط ہوگا۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہے جہاں طاقت کی پرانی زبان بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکا اب بھی عسکری وزن رکھتا ہے، مگر ہر بحران کو اپنی مرضی کے مطابق بند کر دینے کی پوزیشن میں نہیں۔ چین اب بھی خاموش انداز میں آگے بڑھ رہا ہے، مگر اس کی خاموشی کمزوری نہیں، ایک مختلف طرزِ اثر ہے۔ وہ ہر محاذ پر اعلان نہیں کرتا، لیکن ہر بڑے بحران میں اپنا وزن ضرور محسوس کرا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر آج بڑی طاقتیں ایک دوسرے سے بات کرنے پر مجبور ہیں، تو یہ صرف سفارتی رسم نہیں، بدلتے ہوئے توازن کی علامت ہے۔
ایران کے معاملے نے اس تبدیلی کو اور نمایاں کر دیا ہے۔ ایک طرف امریکا مذاکرات میں پیش رفت کا تاثر دینا چاہتا ہے، دوسری طرف تہران عدم اعتماد کے ساتھ ضمانتیں مانگ رہا ہے۔ اسی بیچ پاکستان ایک ایسے فریق کے طور پر سامنے آیا جو محض تماشائی نہیں، بلکہ رابطہ کاری کے قابل ِ اعتبار دائرے میں شمار ہو رہا ہے۔ یہ معمولی بات نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خطے کے موجودہ بحران میں کچھ ریاستیں صرف اپنے جغرافیے سے نہیں، بلکہ اپنے رویّے، اپنے توازن، اور اپنے وقت پر کردار ادا کرنے کی صلاحیت سے اہم ہو رہی ہیں۔
یہاں چین کا کردار خاص توجہ چاہتا ہے۔ مارچ 2026 میں چین اور پاکستان نے مل کر ایران جنگ کے تناظر میں فوری جنگ بندی، جلد از جلد امن مذاکرات، اور آبنائے ہرمز میں معمول کی جہازرانی کی بحالی کی حمایت کی۔ یہ محض رسمی زبان نہیں تھی؛ یہ اس حقیقت کا اظہار تھا کہ بیجنگ جنگ کو صرف ایک فوجی تصادم نہیں، بلکہ راستوں، توانائی، تجارت، اور عالمی استحکام سے جڑا ہوا مسئلہ سمجھتا ہے۔ چین کی یہی خاموش مگر مسلسل پیش قدمی اب اس کی شناخت بنتی جا رہی ہے: وہ ہر جگہ بندوق لے کر نہیں آتا، مگر جہاں اس کے مفادات ہوں وہاں وہ ایسا فریق بن جاتا ہے جسے نظرانداز کرنا آسان نہیں رہتا۔ اسی پس منظر میں نئی دہلی میں ہونے والا برکس وزرائے خارجہ اجلاس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ اجلاس مشترکہ اعلامیے کے بغیر ختم ہوا، کیونکہ ایران، متحدہ عرب امارات، اور دوسرے اراکین کے درمیان مشرقِ وسطیٰ، امریکا، اسرائیل، اور حالیہ جنگ پر اختلافات موجود رہے۔ ایران سخت زبان چاہتا تھا، مگر اتفاق نہ بن سکا، اور بھارت کو آخرکار صرف چیئرمین کا بیان جاری کرنا پڑا۔ یہ واقعہ اس لیے اہم ہے کہ برکس کو اکثر ایک متبادل عالمی قوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر اس اجلاس نے دکھا دیا کہ متبادل بلاک بھی اندرونی تضادات سے آزاد نہیں۔ یعنی نئی صف بندی ابھی مکمل نہیں، بلکہ تشکیل کے مرحلے میں ہے۔ اسی دوران بھارت کے امارات کے ساتھ بڑھتے دفاعی اور توانائی روابط نے ایک اور حقیقت واضح کی۔ مودی کے مختصر دورۂ امارات کے دوران دفاع، بحری سلامتی، سائبر دفاع، مواصلات، اور تیل و گیس سے متعلق معاہدے سامنے آئے، جبکہ آبنائے ہرمز کے خطرات کے پیش ِ نظر متبادل راستوں اور رسدی تحفظ پر بھی زور دیا گیا۔ اس کا مطلب صاف ہے: خلیج کی ریاستیں صرف بیانات نہیں دے رہیں، بلکہ جنگ کے معاشی اثرات کے مطابق اپنے راستے، اپنے اتحاد، اور اپنی ترجیحات دوبارہ ترتیب دے رہی ہیں۔ یعنی اب جنگ صرف محاذ پر نہیں، راہداریوں اور رسد کے نقشے پر بھی لڑی جا رہی ہے۔
یہ سب اشارے جب ایک ساتھ رکھے جائیں تو پاکستان کی اہمیت زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔ پاکستان کی معنویت صرف اس کے جغرافیے سے نہیں بنتی، بلکہ اس بات سے بنتی ہے کہ وہ جنوبی ایشیا، خلیج، ایران، چین، اور بڑی طاقتوں کے بدلتے مفادات کے بیچ ایک ایسے مقام پر واقع ہے جہاں جنگ، رابطہ، توانائی، راہداری، اور توازن سب ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ اگر بڑی طاقتیں ایک دوسرے سے بات کر رہی ہیں، اگر متبادل بلاک اپنے اندر اتفاق پیدا نہیں کر پا رہے، اگر آبنائے ہرمز جیسے راستے پھر سے عالمی سیاست کے مرکز میں آ رہے ہیں، تو پاکستان کو صرف ایک سرحدی ریاست کی طرح نہیں پڑھا جا سکتا۔ وہ ایک ایسی ریاست بھی ہے جو چاہے تو پل بن سکتی ہے، توازن قائم کر سکتی ہے، اور ایسے مواقع پر گفت و شنید کے لیے قابل ِ اعتماد مقام بھی بن سکتی ہے۔ یہاں ایک اور پہلو بھی بہت اہم ہے، اور اسے محض داخلی مسئلہ سمجھ کر الگ نہیں رکھا جا سکتا۔ پاکستان اس وقت بیرونی اہمیت کے ساتھ ساتھ منظم داخلی دباؤ کا بھی سامنا کر رہا ہے۔ خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی نئی لہر، حساس مقامات پر حملے، سرحد پار پناہ گاہوں کے سوال، اور اندرونی بے یقینی پیدا کرنے کی کوششیں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش صرف محاذ پر نہیں، ریاستی توجہ کو منتشر کر کے بھی کی جا رہی ہے۔ مگر یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی اصل حیثیت سامنے آتی ہے: وہ کمزور یا بے سمت ریاست نہیں، بلکہ ایک کلیدی مقام پر کھڑی ریاست ہے جو بیک وقت سلامتی، سفارت، اور علاقائی توازن کے کئی محاذ سنبھال رہی ہے۔
اسی تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون، ترکیہ اور قطر جیسے ملکوں کے ساتھ ممکنہ ہم آہنگی، اور مشترک دفاعی پیداوار یا مسلم دنیا کی کسی وسیع تر تحفظی ساخت کے امکانات بھی زیادہ معنی خیز ہو جاتے ہیں۔ اگر یہ سمت آگے بڑھتی ہے تو پاکستان صرف جغرافیہ نہیں رہے گا، بلکہ ایک ایسے مرکز میں بدل سکتا ہے جہاں مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا، اور اسلامی دنیا کے دفاعی و سیاسی مفادات ایک نئے انداز میں مل سکتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی سفارتی اہمیت صرف ثالثی تک محدود نہیں رہتی، بلکہ ایک وسیع تر علاقائی ترتیب کے عنصر کے طور پر سامنے آتی ہے۔ اسی طرح چین کی خاموش طاقت کو بھی صرف تجارت یا رسمی رابطوں کے دائرے میں نہیں سمجھنا چاہیے۔ چین نے اپنی طاقت صرف بحری بیڑوں یا بیانات سے ظاہر نہیں کی؛ اس نے اپنی ریاستی صلاحیت، عمرانی ساخت، انفرا اسٹرکچر، اور منظم تاثر سازی کے ذریعے بھی ایک پیغام دیا ہے۔ جدید طاقت اب صرف حملہ کرنے کی صلاحیت نہیں رہی؛ اب طاقت اس صلاحیت کا نام بھی ہے کہ کون ماحول کو شکل دیتا ہے، کون رابطے کھلے رکھتا ہے، کون بحران کے بعد کی ترتیب میں موجود رہتا ہے، اور کون اپنے حریف کو یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ اکیلے فیصلہ نہیں کر سکتا۔
یہی وجہ ہے کہ موجودہ مرحلے کو صرف ’’امریکا بمقابلہ چین‘‘ کا سادہ قصہ سمجھنا کافی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کون سی طاقت زیادہ دیرپا ہے، کون سی طاقت زیادہ صابر ہے، کون سی طاقت تصادم کے بیچ بھی راستے بچا کر رکھتی ہے، اور کون سی طاقت اپنے فوجی وزن کو سفارتی اثر میں بدل سکتی ہے۔ امریکا اب بھی طاقت ور ہے، مگر اس کی طاقت بار بار کے بحرانوں، اخلاقی تضادات، اور مسلسل پھیلاؤ کے بوجھ تلے زیادہ پیچیدہ دکھائی دیتی ہے۔ چین خاموش ہے، مگر اس کی خاموشی اب عالمی توازن میں محسوس ہونے لگی ہے۔ پاکستان کے سامنے اصل سوال کمزوری کا نہیں، موقع شناسی کا ہے۔ وہ اس سخت ہوتے ماحول میں محض ردِعمل دینے والی ریاست بن کر نہیں رہ سکتا۔ اس کے پاس اب وہ محلِ وقوع، وہ عسکری وزن، وہ سفارتی گنجائش، اور وہ علاقائی relevance موجود ہے جو اسے دوسروں کے فیصلوں کا محض تابع نہیں رہنے دیتی۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ان نئے اشاروں کو صرف دیکھے گا، یا انہیں اپنے حق میں ایک بڑے تزویراتی لمحے میں بدلنے کی صلاحیت بھی دکھائے گا؟ اور شاید اسی مقام پر آج کا سب سے اہم سوال کھڑا ہوتا ہے: کیا ہم واقعی دو بڑی طاقتوں کے درمیان ایک نئی عالمی ترتیب کو بنتا دیکھ رہے ہیں، یا ہم ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں طاقت کا فیصلہ صرف عسکری شور سے نہیں، بلکہ صبر، نظام، راہداریوں، تعلقات، اور بحران کے بیچ اپنی جگہ محفوظ رکھنے کی صلاحیت سے ہوگا؟ اگر یہی نئی حقیقت ہے، تو پھر اصل سوال صرف یہ نہیں رہ جاتا کہ کون سپر پاور ہے؟ بلکہ یہ بن جاتا ہے کہ اکیسویں صدی کا عالمی وزن کس کے ہاتھ میں جائے گا: اْس کے پاس جو طاقت کو عسکری فوقیت اور فوری جبر سے ناپتی ہے، یا اْس کے پاس جو ریاستی صلاحیت، معاشی رسائی، تزویراتی صبر، اور خاموش مگر دیرپا اثر کے ذریعے عالمی توازن کو نئے سرے سے ترتیب دیتی ہے؟

