آج کی دنیا میں جنگ صرف بندوق اور فوج کے ذریعے نہیں لڑی جا رہی، بلکہ یہ اس بنیادی سوال کے گرد گھومتی ہے کہ طاقت کا اصل ذریعہ پراکسی ہے یا بیانیہ، کیونکہ جدید تنازعات میں دونوں ایک ہی حکمت ِ عملی کے مختلف رُخ بن چکے ہیں۔ ریاستیں اب براہِ راست محاذ آرائی کے بجائے بالواسطہ ذرائع، میڈیا بیانیوں، ڈیجیٹل اثر و رسوخ اور نفسیاتی دباؤ کے ذریعے اپنے مفادات آگے بڑھا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں جنگ ایک خاموش مگر مسلسل کیفیت اختیار کر لیتی ہے جو میدانِ کارزار سے نکل کر ذہنوں اور اسکرینوں تک پھیل جاتی ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں موجودہ دور کی جنگ کو محض عسکری نہیں بلکہ ایک منظم، ہمہ گیر اور قابل ِ نقل نیا ’’پلی بک‘‘ سمجھنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
غزہ کا موجودہ بحران اس بدلتی ہوئی جنگی حقیقت کی ایک نمایاں مثال ہے، جہاں محدود جغرافیے کے باوجود عسکری کارروائی کے ساتھ ساتھ انسانی المیے، عالمی سفارتی دباؤ اور میڈیا بیانیے بیک وقت متحرک دکھائی دیتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے مطابق اس تنازع سے متعلق خبریں، تصاویر اور ویڈیوز ڈیجیٹل دنیا میں اربوں افراد تک پہنچیں، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آج کی جنگیں صرف زمین پر نہیں بلکہ ذہنوں میں بھی لڑی جا رہی ہیں۔ ایسے میں عسکری طاقت کے ساتھ اخلاقی، نفسیاتی اور معلوماتی محاذ بھی فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتے ہیں۔
جنوبی ایشیا میں بھارت قومی سلامتی اور قوم پرستی کے بیانیے کو پرنٹ، الیکٹرونک اور ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے داخلی سیاسی استحکام اور علاقائی پیغام رسانی سے جوڑتا دکھائی دیتا ہے، جبکہ مختلف مغربی تھنک ٹینکس اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ معلوماتی جنگ، ڈیجیٹل نگرانی اور ڈیٹا پر مبنی بیانیاتی حکمت ِ عملی وہاں جدید جنگی پلی بک کا مستقل حصہ بنتی جا رہی ہے۔ اسی طرح مشرقِ وسطیٰ میں ایران علاقائی اتحادیوں اور بالواسطہ شراکت داروں کے ذریعے اثر و رسوخ قائم رکھتا ہے، جسے عالمی تجزیہ کار کم لاگت مگر طویل المدتی حکمت ِ عملی قرار دیتے ہیں۔ ترکیے بھی جدید ڈرون ٹیکنالوجی، فعال سفارت کاری اور میڈیا بیانیے کے امتزاج کے ذریعے اپنی علاقائی موجودگی کو مضبوط کرتا دکھائی دیتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ہائبرڈ جنگ کے طریقے مختلف ریاستی سیاق میں مختلف شکلیں اختیار کر رہے ہیں۔
اس پورے منظرنامے میں مصنوعی ذہانت ایک خاموش مگر فیصلہ کن عنصر کے طور پر ابھری ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق دفاع اور سلامتی کے شعبے میں مصنوعی ذہانت پر عالمی سرمایہ کاری میں سالانہ بیس سے پچیس فی صد تک اضافہ ہو رہا ہے، جہاں ڈیٹا اینالیسز، الگورتھم اور خودکار نگرانی کے نظام نہ صرف عسکری فیصلوں بلکہ عوامی رائے اور بیانیوں کی سمت بھی متعین کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پراکسی جنگیں ریاستوں کو براہِ راست تصادم کے بغیر اپنے مفادات حاصل کرنے کا موقع دیتی ہیں، مگر اس کا نتیجہ اکثر فوری فتح کے بجائے طویل المدتی عدم استحکام اور مسلسل کشیدگی کی صورت میں نکلتا ہے۔
پرنٹ میڈیا پالیسی سازوں اور فکری حلقوں تک رسائی فراہم کرتا ہے، الیکٹرونک میڈیا فوری جذباتی ردِعمل پیدا کرتا ہے، جبکہ سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا عوامی رائے کی تیز رفتار تشکیل میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وہ عناصر ہیں جو جدید جنگ کو ایک مکمل اور ہمہ گیر محاذ میں تبدیل کر دیتے ہیں، جہاں خبر، تصویر اور بیانیہ بعض اوقات توپ و تفنگ سے زیادہ اثر انداز ہو جاتے ہیں۔ اس نئی حقیقت میں جنگ کا مقصد فوری عسکری فتح نہیں بلکہ سوچ، ماحول اور فیصلوں کو اس انداز میں ڈھالنا ہے کہ تصادم ایک مستقل مگر غیر محسوس کیفیت اختیار کر لے۔
آخرکار، یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ اگر اقوام اور معاشرے جنگ کو اب بھی صرف روایتی عسکری زاویے سے دیکھتے رہے تو وہ اس خاموش مگر گہرے چیلنج کو سمجھنے میں ناکام رہیں گے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ شعور، فکری بصیرت اور بیانیاتی آگاہی کو مضبوط کیا جائے، تاکہ امت اور ریاستیں اس بدلتی ہوئی جنگی حقیقت کا مقابلہ محض طاقت سے نہیں بلکہ سمجھ، حکمت اور اجتماعی ذمے داری کے ساتھ کر سکیں۔
