چاہے بات اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کی ممکنہ سفارتی منظوری کی ہو یا متحدہ عرب امارات کی بڑھتی ہوئی طاقت اور اثر پذیری کے تجزیے کی، ایک اخلاقی سوال خود بخود سامنے آتا ہے: کیا طاقت اخلاقی ہوتی ہے؟ مگر شاید یہی سوال اپنی بنیاد میں درست نہیں۔ زیادہ قرین ِ قیاس بات یہ ہے کہ طاقت اور اخلاقیات دو الگ مگر باہم جڑے ہوئے تصورات ہیں۔ بین الاقوامی قانون اگرچہ خودمختاری، انصاف اور اصول جیسے اخلاقی تصورات پر قائم ہے، لیکن عالمی نظام عملاً طاقت اور اثر و رسوخ کے توازن کے تابع رہتا ہے۔ اگر اخلاقیات واقعی عالمی سیاست کی رہنما ہوتیں تو قوانین کی خلاف ورزیاں معمول نہ بنتیں، پابندیاں چند مخصوص ریاستوں تک محدود نہ رہتیں، اور تاریخ ہمیشہ طاقتور فریق کے نقطہ ٔ نظر سے مرتب نہ کی جاتی۔
طاقت اثر پیدا کرتی ہے، اور یہ اثر ہمیشہ عسکری قوت یا براہِ راست تشدد سے جنم نہیں لیتا۔ اکثر یہ خاموشی سے ریاستی اور عالمی نظاموں کے اندر راستے بناتا ہے۔ جدید تنازعات میں مسلح گروہ اب نظریات کے بجائے سرمائے کے سہارے قائم رہتے ہیں، مگر کم ہی یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ یہ سرمایہ کن ذرائع سے آ رہا ہے، مالیاتی ڈھانچے اس میں کس طرح شامل ہیں، اور پابندیاں مخصوص انداز میں کیوں نافذ کی جاتی ہیں۔ طاقت اور اثر و رسوخ اب ایک ایسی قدر بن چکے ہیں جو روایتی راستوں کی محتاج نہیں۔ اگر کوئی ریاست سونا، توانائی یا دیگر قدرتی وسائل کو مالی قوت میں ڈھال سکتی ہے تو وہ ایک گولی چلائے بغیر بھی تصادم کی معیشتوں میں داخل ہو سکتی ہے۔ اسی لیے طاقت کو محض اچھا یا برا قرار دینا ممکن نہیں؛ دو ٹوک تقسیم عالمی سیاست میں کارگر ثابت نہیں ہوتیں۔ مستقل مسابقت کی دنیا میں مکمل اخلاقیات ایک دلکش تصور تو ہو سکتی ہیں، مگر عملی حقیقت نہیں۔
اسی تناظر میں اگر وینزویلا کو سامنے رکھ کر یہ سوال اٹھایا جائے کہ اس کے بعد امریکا کی توجہ کا اگلا مرکز کون ہو سکتا ہے، تو ایک واضح نقشہ ابھرتا ہے۔ دباؤ کسی عسکری یلغار سے شروع نہیں ہوتا بلکہ پہلے معاشی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، پھر کرنسی کو دباؤ میں لایا جاتا ہے، اس کے بعد قانونی چارہ جوئی، خفیہ معلومات پر مبنی کارروائیاں اور سیاسی ساکھ کو کمزور کرنے کے اقدامات سامنے آتے ہیں۔ جب یہ مراحل اپنی حد کو پہنچنے لگتے ہیں تو محدود نوعیت کے عملی اقدامات اختیار کیے جاتے ہیں۔ یہی جدید طاقت کا طریقۂ کار ہے، جو جھنڈوں اور ٹینکوں کے بجائے دباؤ اور گرفت کے ذریعے کام کرتا ہے۔
یہی منطق ایران کے معاملے میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ ایران میں جاری بے چینی اگرچہ 1979 کے بعد شاید سب سے زیادہ شدید ہے، مگر اسے انقلاب قرار دینا تجزیاتی لغزش ہوگی۔ جو کچھ وہاں ہو رہا ہے وہ کم شدت کے خفیہ دباؤ کے ایک مانوس نمونے سے مشابہ ہے، جس کا مقصد حکومت کا تختہ الٹنا نہیں بلکہ ریاستی صلاحیت کو کمزور کرنا، معاشرے کو مسلسل بے یقینی میں رکھنا اور قیادت کو دباؤ میں رکھنا ہے۔ ایسی حکمت ِ عملیاں لازماً سخت حفاظتی ردِعمل کو جنم دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں داخلی تقسیم گہری ہوتی ہے اور بیانیاتی محاذ پر بیرونی خطرات کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ منظم نیٹ ورکس، غیر قانونی ہتھیاروں تک رسائی، بیرونِ ملک تیار کردہ ہدایتی مواد اور روز مرہ زندگی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے جیسے طریقے اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مقصد ریاستی ناکامی کا تاثر قائم کرنا ہے۔ اس کے باوجود، ایران کی متنوع سماجی ساخت نے واضح کیا ہے کہ انہیں ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور تمام دباؤ کے باوجود کسی فوری انہدام کا کوئی واضح نقشہ سامنے نہیں آیا۔
اسی بحران کے ساتھ ایک متوازی محاذ ڈیجیٹل دنیا میں بھی کھل چکا ہے۔ سماجی رابطوں کے ذرائع پر جارحانہ بیانیات کے ذریعے احتجاجی سرگرمیوں کو بڑھاوا دیا گیا۔ ہاآرتص، دی مارکر اور سٹیزن لیب کی تحقیقات نے مربوط آن لائن اثرانداز مہمات، جعلی فارسی زبان کے اکاؤنٹس، مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد اور فرضی شناختوں کے استعمال کی نشاندہی کی۔ کئی مواقع پر ایسا مواد زمینی حقیقت سے پہلے سامنے آیا، جس سے واضح ہوا کہ یہ محض خود رو عوامی تحریک نہیں بلکہ عالمی ناظرین کے لیے ترتیب دی گئی بیانیاتی تشکیل تھی۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ معاشی دباؤ، مہنگائی اور سیاسی بے چینی کے باعث حقیقی احتجاج بھی موجود تھا، مگر ان ڈیجیٹل مہمات کا بنیادی مقصد عالمی تاثر اور ذرائع ابلاغ کی توجہ کو مخصوص سمت میں موڑنا تھا۔ جدید تنازعات اب بیک وقت سڑکوں اور اسکرینوں پر لڑے جا رہے ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی محض عالمی سیاست تک محدود نہیں بلکہ اس کا براہِ راست تعلق تیل، بحری گزرگاہوں اور عالمی مہنگائی سے ہے۔ جیسے ہی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے، تیل بردار جہازوں کی انشورنس لاگت فوراً بڑھ جاتی ہے، بحری نقل و حمل سست پڑ جاتی ہے اور توانائی کی منڈیاں خطرے کو قیمتوں میں سمو لیتی ہیں۔ آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر جیسے راستوں پر معمولی سی کشیدگی بھی عالمی رسد، ایندھن کی قیمتوں اور غذائی مہنگائی کو متاثر کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے تنازعات میں منڈیاں اکثر افواج سے پہلے ردِعمل ظاہر کرتی ہیں۔
اسی پس منظر میں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ خلیج میں موجود امریکی فوجی اڈے کسی حملے کے لیے نہیں بلکہ بازدار قوت اور دباؤ کے توازن کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔ تاہم یہ حکمت ِ عملی خود خلیجی ریاستوں کے لیے ایک نازک مخمصہ پیدا کرتی ہے، کیونکہ کسی بھی محدود کشیدگی کا براہِ راست اثر ان کی توانائی کی برآمدات، سرمایہ کی آمد و رفت اور معاشی استحکام پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیجی ریاستیں بظاہر خاموش دکھائی دیتی ہیں، مگر پس ِ پردہ کشیدگی کو پھیلنے سے روکنے کی کوششوں میں مصروف رہتی ہیں۔ یہ خاموشی کمزوری نہیں بلکہ محتاط خطرہ نظم و نسق ہے۔
اسی وسیع طاقت کے حساب میں حالیہ مہینوں کے دوران پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی روابط، مشترکہ عسکری مشقوں اور تکنیکی تعاون میں آنے والی پیش رفت کو محض معمول کی سفارت کاری سمجھنا تجزیاتی سادگی ہوگی۔ یہ روابط کسی رسمی فو
جی اتحاد کا اعلان نہیں، بلکہ ایک ایسے خاموش دفاعی جال کی تشکیل کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو مغربی رسد گاہوں، سیاسی شرائط اور استعمال کی پابندیوں کے متبادل راستے تلاش کر رہا ہے۔ یہاں مقصد کسی کے خلاف کھلی صف بندی نہیں بلکہ اسٹرٹیجک خودمختاری کو محفوظ بنانا ہے، تاکہ کسی بحران کی صورت میں ریاستیں محض اخلاقی بیانات یا بیرونی ضمانتوں پر انحصار کرنے پر مجبور نہ ہوں۔ یہی منطق خلیج کی محتاط خاموشی، ایران پر دباؤ کی تہہ دار حکمت ِ عملی اور عالمی منڈیوں کے فوری ردِعمل میں بھی جھلکتی ہے: طاقت اب شور پر نہیں بلکہ حساب کتاب پر چل رہی ہے۔
آج کی عالمی سیاست میں اتحاد اخلاقیات کے بجائے حساب سے بنتے ہیں۔ طاقت اب کسی نعرے یا اعلان کی محتاج نہیں رہی بلکہ ایک ایسا مؤثر ذریعہ بن چکی ہے جو خاموش، منظم اور غیر خطی انداز میں استعمال ہو رہا ہے۔ اس کا اظہار تیل کی درآمد و برآمد، توانائی کی قیمتوں، بحری گزرگاہوں، انشورنس کے خطرات اور عالمی منڈیوں کے فوری ردِعمل میں نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے، جہاں کسی ایک محدود اقدام کے اثرات سرحدوں سے کہیں آگے تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ ایسے ماحول میں ریاستیں نہ مکمل صف بندی کرتی ہیں اور نہ ہی کھلی مخالفت، بلکہ اپنے مفادات، رسائی اور گنجائش ِ عمل کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ شاید اسی لیے آج یہ سوال زیادہ شور نہیں مچاتا، مگر آہستہ آہستہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ عالمی نظام میں تعلقات اب اسی بنیاد پر تشکیل پا رہے ہیں کہ کون، کیوں، کہاں اور کب — کس کے ساتھ کھڑا ہونا زیادہ قابل ِ عمل سمجھتا ہے۔

