گزشتہ ایک دہائی کے دوران برکس مسلسل اس تصور کو آگے بڑھاتا رہا ہے کہ ایک زیادہ کثیر قطبی دنیا کو ایسے اداروں کی ضرورت ہے جن میں ابھرتی ہوئی طاقتوں کو عالمی فیصلوں پر زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہو۔ برکس کی توسیع نے اس مؤقف کو تقویت تو دی ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک زیادہ مشکل سوال بھی پیدا کر دیا ہے: برکس جتنا سیاسی طور پر متنوع ہوتا جائے گا، اس کے لیے اپنی عددی اور معاشی قوت کو مشترکہ تزویراتی طاقت میں تبدیل کرنا اتنا ہی مشکل ہوتا جائے گا۔ ایران کی موجودگی اس تضاد کو خاص طور پر نمایاں کرتی ہے۔ ایران نے 2024 میں مصر، ایتھوپیا اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ برکس میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 2025 میں انڈونیشیا بھی مکمل رکن بن گیا۔ اب اس گروپ میں دس ممالک شامل ہیں، لیکن امریکا، چین، روس اور خود ایک دوسرے کے ساتھ ان کے تعلقات یکساں نہیں۔ بعض ممالک واشنگٹن کے اہم سلامتی شراکت دار ہیں، جبکہ بعض اس کے ساتھ براہِ راست تصادم کی کیفیت میں ہیں۔ کچھ ریاستیں مغربی غلبے والے عالمی اداروں پر انحصار کم کرنے کی رفتار تیز کرنا چاہتی ہیں، جبکہ دوسروں کے لیے برکس کی کشش ہی یہ ہے کہ یہاں شمولیت کے لیے کسی ایک جیوپولیٹیکل کیمپ کا انتخاب ضروری نہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ تنازع نے ان اختلافات کو برکس کے لیے ایک عملی امتحان بنا دیا ہے۔ مئی میں نئی دہلی میں ہونے والے برکس وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ایران سے متعلق جنگ پر اختلافات اس حد تک پہنچ گئے کہ رکن ممالک مشترکہ اعلامیہ جاری نہ کر سکے اور بھارت کو بطور میزبان چیئرمین کا بیان جاری کرنا پڑا۔ ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تناؤ اس اختلاف کا نمایاں پہلو تھا۔ تہران نے ابوظبی پر ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا، جس کی امارات نے تردید کرتے ہوئے اپنے اقدامات کو خودمختاری اور بنیادی تنصیبات کے تحفظ کے لیے دفاعی اقدامات قرار دیا۔ چار ماہ بعد صورتِ حال مختلف تھی۔ ستمبر میں نئی دہلی میں ہونے والے سربراہ اجلاس میں برکس ممالک نے متفقہ اعلامیہ منظور کیا، جس میں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ تحمل اور تنازعات کے پْرامن حل کے لیے مذاکرات، مشاورت اور سفارت کاری پر زور دیا گیا۔ اعلامیے کی زبان جان بوجھ کر محتاط اور وسیع رکھی گئی۔ یہ محض سفارتی اندازِ بیان نہیں تھا، بلکہ ایسی حکومتوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی قیمت تھی جن کے اس بحران میں مفادات اور سلامتی کے تصورات ایک دوسرے سے خاصے مختلف ہیں۔ یہیں برکس کی توسیع کے بعد اس کے سامنے موجود بنیادی تزویراتی سوال سامنے آتا ہے: کیا برکس مکمل تزویراتی ہم آہنگی کے بغیر بھی ایک مؤثر عالمی قوت بن سکتا ہے؟ ایران اس سوال کی اہمیت سمجھنے کے لیے ایک اہم مثال ہے۔
تہران کے لیے برکس فوجی تحفظ فراہم نہ کرنے کے باوجود قابلِ ذکر سیاسی اہمیت رکھتا ہے۔ ایران وسیع مغربی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے اور امریکا کے ساتھ براہِ راست تصادم کی کیفیت میں ہے۔ برکس کی رکنیت اسے ایک ایسا بڑا سفارتی پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے جہاں شرکت کی شرائط واشنگٹن طے نہیں کرتا اور یک طرفہ اقتصادی دباؤ کے استعمال کی مخالفت کو خاصی حمایت حاصل ہے۔ نئی دہلی میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مؤقف اختیار کیا کہ اقتصادی دباؤ کو جائز تجارت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ دوسری جانب برکس کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے سربراہ عالمی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک میں اصلاحات اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کو زیادہ نمائندگی دینے والے عالمی مالیاتی نظام کی بات کر رہے ہیں۔ رکن ممالک ادائیگی کے نظاموں کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے اور سرحد پار لین دین کو زیادہ تیز اور کم خرچ بنانے پر بھی کام کر رہے ہیں۔ یہ تمام اقدامات ایرانی مفادات سے مطابقت رکھتے ہیں، لیکن ان کی اہمیت کو بڑھا چڑھا کر دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ برکس کے پاس کوئی مشترکہ کرنسی نہیں۔ نہ ہی اس کے پاس ایسا متحد مالیاتی نظام موجود ہے جو پابندیوں کے اثر سے مکمل طور پر محفوظ ہو۔ مقامی کرنسیوں کے زیادہ استعمال اور مختلف ادائیگی کے نظاموں کے باہمی رابطے سے لین دین کے اخراجات کم ہو سکتے ہیں اور وقت کے ساتھ رکن ممالک کو اضافی مالیاتی راستے میسر آ سکتے ہیں۔ لیکن یہ ڈالر پر مبنی عالمی مالیاتی نظام کا متبادل قائم کرنے یا مغربی مالی پابندیوں کو بے اثر کر دینے سے بالکل مختلف معاملہ ہے۔ نیو ڈیولپمنٹ بینک اس محدودیت کی ایک اہم مثال ہے۔ برکس کے ابتدائی رکن ممالک نے یہ بینک بنیادی ڈھانچے اور پائیدار ترقی کے منصوبوں کی مالی معاونت کے لیے قائم کیا تھا۔ لیکن 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد پیدا ہونے والی پابندیوں اور مالیاتی غیر یقینی کے ماحول میں بینک نے روس میں نئے لین دین روک دیے۔ خود بینک نے اپنے فیصلے کو قواعد و ضوابط کی پابندی سے متعلق تحفظات سے جوڑا۔
اس مثال سے ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے: برکس کا قائم کردہ ادارہ بھی اس وسیع عالمی مالیاتی نظام کے اندر کام کرتا ہے جس کے ضابطوں اور خطرات کو وہ محض نظر انداز نہیں کر سکتا۔ اس لیے ایران کے معاملے میں برکس تہران کی سفارتی اور اقتصادی گنجائش تو بڑھا سکتا ہے، لیکن پابندیوں کے سامنے اس کی بنیادی کمزوریوں کو ختم کرنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔ سلامتی کے میدان میں بھی یہی فرق برقرار رہتا ہے۔ برکس کوئی اجتماعی دفاعی تنظیم نہیں۔ ایران پر حملہ ہونے کی صورت میں بھارت، برازیل، چین، جنوبی افریقا، متحدہ عرب امارات یا کسی دوسرے رکن پر فوجی مداخلت کی کوئی معاہداتی ذمے داری عائد نہیں ہوتی۔ اسی طرح تمام اراکین کسی مشترکہ خطرے کے تصور پر بھی متفق نہیں۔ نئی دہلی اعلامیے میں تحمل اور سفارت کاری پر زور اسی ادارہ جاتی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ برکس کسی معاملے پر مشترکہ مؤقف اسی وقت اختیار کر سکتا ہے جب اس کی زبان اتنی گنجائش رکھتی ہو کہ مختلف سلامتی مفادات رکھنے والی ریاستیں اسے قبول کر سکیں۔ اس محدودیت کو برکس کی کمزوری سمجھنا آسان ہے، لیکن شاید یہ نتیجہ قبل از وقت ہوگا۔

