معاہدہ ہو چکا ہے، مگر یہ امن کا اعلان نہیں؛ یہ بحران کو قابو میں رکھنے کا ایک عبوری فریم ورک ہے۔ مذاکرات جاری ہیں۔ خطے کے دارالحکومتوں میں سفارت کاری غیر معمولی طور پر متحرک ہے، اور وہ فریق جو چند ہفتے قبل تصادم کے دہانے پر کھڑے تھے، اب رابطوں اور مشاورت کے نئے سلسلوں میں مصروف ہیں۔ بظاہر مشرقِ وسطیٰ ایک زیادہ محفوظ مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ لیکن اگر واقعی خطرہ ٹل چکا ہے تو پھر آبنائے ہرمز کے مستقبل پر نئی مشاورتوں کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟ علاقائی ریاستیں نئے سلامتی انتظامات پر غور کیوں کر رہی ہیں؟ اور وہ سوالات، جنہوں نے دہائیوں سے خطے کو عدم استحکام کی گرفت میں رکھا، اب بھی عالمی سفارت کاری کے مرکز میں کیوں موجود ہیں؟ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سکون اور استحکام ایک ہی چیز نہیں۔ سکون ایک وقفہ ہو سکتا ہے؛ استحکام ایک نظام ہوتا ہے۔ سکون مذاکرات سے پیدا ہو سکتا ہے، مگر استحکام کے لیے اعتماد، قابل ِ نفاذ سیاسی بندوبست اور ایسا علاقائی توازن درکار ہوتا ہے جو بحرانوں کو دوبارہ جنم لینے سے روکے۔ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمت نے فوری تصادم کا خطرہ کم ضرور کیا ہے، لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ جنگ رک گئی؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا جنگ کے اسباب بھی کم ہوئے ہیں؟ حالیہ پیش رفت کو کم تر سمجھنا بھی غلط ہوگا۔
ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں کی بحالی، جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی کوششیں، اور ایک عبوری مفاہمتی فریم ورک کا سامنے آنا ایسے وقت میں ممکن ہوا جب خطہ ایک وسیع تر جنگ کے خدشات سے دوچار تھا۔ سفارت کاری نے کم از کم اتنا ضرور کیا کہ بندوق اور مذاکرات کے درمیان انتخاب میں دوسرے راستے کو زندہ رکھا۔ لیکن معاہدے کشیدگی کم کر سکتے ہیں، تاریخ نہیں بدلتے۔ کسی بھی مفاہمت کی اصل آزمائش اس کے اعلان کے بعد شروع ہوتی ہے۔ اس آزمائش کی پہلی وجہ وہ مسائل ہیں جو اب بھی حل طلب ہیں۔ ایران پر عائد پابندیاں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔ منجمد اثاثوں کا مسئلہ برقرار ہے۔ بیلسٹک میزائل پروگرام اختلاف کا موضوع ہے۔ لبنان، غزہ اور دیگر علاقائی محاذ اب بھی تزویراتی حساب کتاب کا حصہ ہیں۔ اگر تنازع واقعی اپنے اختتام کے قریب ہوتا تو خطہ آج بھی انہی سوالات کے گرد گردش نہ کر رہا ہوتا۔ آبنائے ہرمز اس تضاد کی سب سے واضح مثال ہے۔ دنیا کی توانائی تجارت کا ایک بڑا حصہ اس آبی گزرگاہ سے وابستہ ہے۔ تیل کی قیمتوں سے لے کر عالمی سپلائی چینز تک، اس کی سلامتی صرف خلیجی ریاستوں کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کا سوال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشیدگی میں کمی کے باوجود خطے کے ممالک ہرمز کے مستقبل، بحری سلامتی اور توانائی کی رسد کے تحفظ پر نئی مشاورتوں میں مصروف ہیں۔ اگر استحکام واقعی حاصل ہو چکا ہوتا تو اس نوعیت کی سرگرمیوں کی ضرورت شاید نہ پڑتی۔
یہی فرق بحران کے انتظام اور بحران کے حل کے درمیان ہے۔ پہلا آگ کو پھیلنے سے روکتا ہے؛ دوسرا آگ لگنے کے اسباب ختم کرتا ہے۔ موجودہ پیش رفت نے پہلے کو ممکن بنایا ہے، دوسرے کو نہیں۔ جنگ کے امکانات محدود ہوئے ہیں، مگر وہ عوامل جو جنگ کو جنم دیتے ہیں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ جنگ بندی بندوقوں کو خاموش کر سکتی ہے، مگر ان حساب کتابوں کو نہیں جو جنگوں کو جنم دیتے ہیں۔ خاموشی ہمیشہ سلامتی کا دوسرا نام نہیں ہوتی۔ اسی دوران ایک اور خاموش تبدیلی بھی رونما ہو رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اب صرف بڑی طاقتوں کے گرد نہیں گھوم رہی۔ سعودی عرب، قطر، مصر، پاکستان اور دیگر علاقائی ریاستیں زیادہ فعال کردار ادا کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ حالیہ سفارتی مشاورتیں، علاقائی رابطے اور نئے سلامتی ڈھانچے پر گفتگو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ خطے کے ممالک اب اپنی سلامتی کو صرف بیرونی ضمانتوں کے ذریعے نہیں بلکہ علاقائی انتظامات کے ذریعے بھی محفوظ بنانا چاہتے ہیں۔ اس تناظر میں سعودی عرب کا کردار خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔ ریاض گزشتہ چند برسوں میں محاذ آرائی سے زیادہ توازن، تنوع اور علاقائی سفارت کاری کی حکمت عملی اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ایران کے ساتھ روابط کی بحالی، چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی شراکت داری، اور علاقائی سلامتی سے متعلق نئی مشاورتیں اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ خلیجی ریاستیں ایک ایسے دور کے لیے خود کو تیار کر رہی ہیں جس میں سلامتی کی ذمے داری زیادہ مقامی اور کم بیرونی ہو سکتی ہے۔ یہ تبدیلی مکمل نہیں، لیکن قابل ِ توجہ ضرور ہے۔
پاکستان کا کردار بھی اسی وسیع تر تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایران کے صدر کا جنگ بندی کے بعد پہلا غیر ملکی دورہ پاکستان ہونا محض سفارتی آداب کا معاملہ نہیں۔ حالیہ مہینوں میں اسلام آباد نے مختلف فریقوں کے درمیان رابطوں اور سفارتی سہولت کاری میں جو کردار ادا کیا۔ پاکستان کے لیے اصل کامیابی یہ نہیں کہ اسے سنا گیا؛ اصل امتحان یہ ہے کہ کیا وہ اس سفارتی رسائی کو پائیدار علاقائی کردار میں بدل سکتا ہے۔ تاہم اس کردار کو حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔ ثالثی اور سہولت کاری استحکام پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں، استحکام کی ضمانت نہیں۔ پاکستان کی سفارت کاری کی اصل آزمائش اعلان نہیں، عمل درآمد ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ سفارتی گرمجوشی کے باوجود پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی سلامتی، معاشی روابط، توانائی کے تعاون اور باہمی اعتماد سے متعلق سوالات اپنی جگہ موجود ہیں۔ سفارتی قربت اور تزویراتی اعتماد ہمیشہ ایک ہی چیز نہیں ہوتے۔ دوسری طرف، غیر یقینی صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں۔ واشنگٹن میں بھی ایران پالیسی پر مکمل اتفاقِ رائے موجود نہیں۔ امریکی سیاسی حلقوں میں جاری مباحث اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ خارجہ پالیسی اکثر داخلی سیاست کی توسیع ہوتی ہے۔ اگر کسی مفاہمت کا مستقبل خود اس کے اہم فریق کی داخلی سیاسی کشمکش سے متاثر ہو سکتا ہو تو استحکام کا راستہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ کوئی بھی معاہدہ صرف خطے میں نہیں، ان دارالحکومتوں میں بھی زندہ رہتا ہے جہاں اس کے بارے میں فیصلے کیے جاتے ہیں۔
ایران کے لیے بھی چیلنج ختم نہیں ہوئے۔ پابندیوں سے نجات، عالمی مالیاتی نظام میں مکمل واپسی، منجمد اثاثوں کا مسئلہ، علاقائی تعلقات کی ازسرِ نو تشکیل اور معیشت کی بحالی ایسے معاملات ہیں جن کا حل کسی ایک مفاہمتی یادداشت یا ایک سفارتی کامیابی سے ممکن نہیں۔ اسی طرح امریکا کے لیے بھی یہ مفاہمت محض بحران کو سنبھالنے کی مشق نہیں بلکہ اپنی پھیلی ہوئی علاقائی حکمت عملی کو ازسرِ نو ترتیب دینے کا موقع ہے۔ ایران اپنی قوتِ بازدارندگی، تزویراتی گہرائی اور علاقائی اثر و رسوخ کو سفارتی سرمایہ میں بدلنا چاہتا ہے، جبکہ امریکا اپنی تزویراتی ساکھ کھوئے بغیر کشیدگی کو محدود رکھنا چاہتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دونوں کی حکمت ِ عملی ایک دوسرے سے جڑتی بھی ہے اور ٹکراتی بھی ہے۔ درحقیقت مشرقِ وسطیٰ اس وقت جنگ اور امن کے درمیان نہیں بلکہ ایک پرانے تزویراتی نظم کے خاتمے اور ایک نئے نظم کی تلاش کے درمیان کھڑا ہے۔ موجودہ مفاہمت نے تصادم کے امکانات کم کیے ہیں، مگر عدم اعتماد ختم نہیں کیا۔ اس نے رابطے بحال کیے ہیں، مگر تنازع کے بنیادی اسباب ختم نہیں کیے۔ اس نے بحران کو منظم کیا ہے، مگر استحکام کو یقینی نہیں بنایا۔ شاید اسی لیے آج مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں اصل سوال یہ نہیں کہ معاہدہ ہو گیا یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ مفاہمت ایسا علاقائی سلامتی ڈھانچہ پیدا کر سکے گی جو اگلے بحران کو جنم لینے سے پہلے روک دے؟ یا خطہ اب بھی سکون کے ایک ایسے تاثر کے سائے میں کھڑا ہے، جس کے پیچھے استحکام بدستور اوجھل ہے؟

